International News, Online Earning Ways, New Jobs , Tips & Tricks Life Changing Writing & Startup Business

BREAKING NEWS

اسلام علیکم دوستوں میرا نام عطاءاللہ خان ڪيهر ہے WELCOME TO MY BLOG SUBSCRIBE MY BLOG BY ADDING EMAIL ???? "Attaullah Kehar" AND SEE SOMETHING NEW WhatsApp =+923083033205

Showing posts with label بزنس کریں۔ BUSINESS AND GET RICH. Show all posts
Showing posts with label بزنس کریں۔ BUSINESS AND GET RICH. Show all posts

Friday, July 5, 2019

July 05, 2019

بیروزگاروں کے لئے کچھ کام کی باتیں۔2019

ہاتھ میں کاغذ اور پینسل رکھ لیجیے۔ اب بیس سیکنڈز کے لئے آنکھیں بند کریں۔ کچھ سوچنا نہیں بلکہ ان بیس سیکنڈز کو گننا ہے۔ 
ایک۔ دو۔ تین  اور پھر۔۔بیس۔ آنکھیں کھولیں اور فوری تین مقاصد لکھیں جنہیں آپ زندگی میں لازمی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔  بنا سوچے سمجھے اچانک اس طرح لکھے گئے تین مقاصد آپ کی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں۔ ان مقاصد پر مزید غور و فکر کیجیے۔ ان سے متعلق ہر وہ پوائنٹ تفصیل سے لکھیں جس سے ان مقاصد کا حصول آسان ہوتا ہو۔ انہیں مزید سے مزید واضح کرتے چلے جائیں۔ ہر مقصد کے ساتھ وقت کی قید لگانا ضروری ہے۔ مثلاََ : میں فلاں بزنس جنوری 2020 میں شروع کردوں گا

میں نے گاہک کو عزت دینا اپنے ہندو کلائینٹس سے سیکھا. میں نے سمجھا کہ کسی بھی کاروبار میں سب سے اہم آپ کا گاہک ہے کیونکہ گاہک ہی وہ شخص ہے جو آپ کے بل بھر رہاہے. ہندو بزنس مین اپنے گاہک پہ جتنی توجہ دیتے ہیں اتنی ہم مسلمان نہیں دیتے ہم کہتے ہیں بس چیز بکے باقی گاہک جائے بھاڑ میں لیکن بزنس کا بنیادی اصول ہی گاہک کو مستقل گاہک میں بدلنا ہے.اللہ کا شکر ہے اس اصول کو فالو کر کے میں نے اب تک بہت سے مستقل گاہک بنائیں ہیں جو میرے علاوہ کہیں نہیں جاتے.

بے شک اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس قادرِ مطلق نے دنیا کو چلانے کیلئے ایک نظام وضع کیا ہے اور کچھ اصول لاگو کیے ہیں اور جب تک آپ ان اصولوں کی پاسداری نہیں کریں گے ، کامیابی آپ کے نزدیک سے بھی نہیں گزرے گی۔

اللّٰہ تعالیٰ نے کسی بھی شعبے میں کامیابی کیلئے جہاں محنت اور کوشش کی شرط رکھی ہے وںیں کچھ اصول بھی طے کردیے ہیں۔اللّٰہ تعالیٰ نے زمین کے اندر اناج پیدا کرنے کے طاقت مہیا کررکھی ہے مگرساتھ ہی کچھ لوازمات بھی مقرر کردیے ہیں۔ آپ زمین میں ہل چلائیں گے ، بیج ڈالیں گے ، پانی لگائیں گے تب ہی کھیتی تیار ہوگی ۔
اگر آپ ان میں سے ایک کام بھی چھوڑ دیں اور سارا دن اور ساری رات اس کھیت میں سجدے میں پڑے رہیں، فصل نہیں اگے گی۔اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ نے قدرت کے بنائے اصولوں کی خلاف ورزی کی ۔
اس لئے کسی بھی شعبے میں کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ پہلے آب قدرت اور فطرت کے تقاضوں کو پورا کریں اور پھر قادرِ مطلق کے دربار میں سر بسجود ہو کر دعا کریں کہ اے مالک، میں نے تیرے حکم کے مطابق اپنی طرف سے سارے لوازمات اور احکامات پورے کردیے ہیں اور اپنی سی کوشش کرڈالی ہے۔ اے میرے رب ، اب تو اپنی رحمت سے اس میں برکت عطا فرما ۔ پھر آپ امید رکھ سکتے ہیں کہ کامیابی ہی آپ کا مقدر بنے گی



پیسے اور رزق کے حصول کی تگ و دو کو میٹیرل ازم کہنے والے لاکھ جھٹلا لیں مگر اس سچ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جیب بھری ہو تو محبتیں، خلوص، رشتے اور خوشیاں بھی پاس ہوتے ہیں، اور جیب خالی ہو تو اس میں نفرتیں، عناد، اکتاہٹ، بیزاری، دکھ اور جھگڑے اور خود کشیاں پلتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ خالی جیب کے ساتھ حقوقِ انسانی تو دور حقوقِ اللہ کی ادائیگی بھی ممکن نہیں کیونکہ بھوکے پیٹ سے کراہا تو جا سکتا ہے مگر خدا کی تسبیح نہیں کی جا سکتی۔ ایسے ہی نہیں کہا گیا کہ قریب ہے کہ بھوک تمہیں کفر کے دہانے پہ پہنچا دے اور حصول رزق حلال عین عبادت ہے۔
لہذا یاد رکھیے کہ آپ کے تمام پیشوا جو ایک وقت کا کماکر دوسرے وقت کی فکر کرنے والوں کو بھٹکے ہوئے اور مادیت پرست کہتے ہیں ان کے آستانے پر ان کی آنے والی نسلوں تک انتظام ہوتا ہے کیونکہ مریدین کا ایک وقت سے بیشتر کا رزق انہیں آستانوں کی نظر ہوتا ہے۔
جان لیجیے! خدا نے رزق حلال کمانے کو نہ تو گناہ قرار دیا ہے نہ اس کو ناپسند فرمایا ہے بلکہ اس کو عبادت قرار دیا ہے اور دوران رزق حلال کمانے کے مرنے والے کو شہید۔ پرائی اور مفت کی روٹی توڑ کر اللہ اللہ کرنے والے سست اور کاہل عابد کی نسبت اپنا تن مار کر دوسروں کا پیٹ بھرنے والا انسان ہزار نہیں لاکھ درجے بہتر اور افضل ہے۔ لہذا اپنی سستی، کاہلی، کام چوری اور ہاتھ پاؤں چھوڑ رہنے کو کسی نام نہاد مذہبی دلیل میں لپیٹ کر دل کو بہلانا بند کیجیے۔
اسلام ایک دین فطرت ہے اور اس میں کوئی بھی چیز فطرت انسانی اور کامن سینس کے خلاف نہیں ہے۔یاد رکھیے غریب پیدا ہونا جرم نہیں مگر آپ کا اپنی وجہ سے غریب مرنا ایک بہت بڑا پاپ ہے۔اور محنت کے بجائے محض خدا پر چھوڑ کر بیٹھے رہنے والے اپنی جان پر تو ظلم کرتے ہی ہیں مگر اپنے ساتھ بہت سے اور رشتوں کو بھی جہنم میں جھونک دیتے ہیں۔
حصول رزق حلال کو محض مقدر کا کھیل کہنے والوں کی کھوپڑی میں اتنی سی بات نہیں بیٹھتی کہ خدا پرندوں کو بھی رزق دیتا ہے مگر ان کے گھونسلے میں نہیں ڈالتا۔

Friday, May 3, 2019

May 03, 2019

دوکان پر گاہک اللہ بھیجتا ہے | HOW TO BECOME RICH PERSON IN THE WORLD

دوکان پر گاہک اللہ بھیجتا ہے   | HOW TO BECOME RICH PERSON IN THE WORLD
دوکان پر گاہک اللہ بھیجتا ہے   | HOW TO BECOME RICH PERSON IN THE WORLD  

دوکان پر گاہک اللہ بھیجتا ہے... برطانیہ، چین اور ملائشیا مشہور سپر سٹورز میں کام کرنیوالے ایک لائق فائق مینجر کو بن داؤد سپر سٹوز مکہ میں کام کرنیکا اتفاق ہواوہ برطانوی نژاد تھا اور بزنس مینجمنٹ کی کتابوں میں اس نے ہمیشہ اپنے مد مقابل منافس(competitor) کو نیچا دکھا کر آگے بڑھنا ہی سیکھا تها-  
مکہ مکرمہ میں کچھ عرصہ اس نے بطور ریجنل منیجر کے اپنی خدمات سرانجام دیںدریں اثناء اس نے دیکھا کہ ایک دوسرے نام کے سپر سٹور کی برانچ اسکے سٹور کے بالکل سامنے کھلنے کی تیاریاں ہورہی ہیں اس نے سوچا کہ یہ لوگ ادھر آکر اسکی سیلز پر اثر انداز ہونگے- لہذا اس نے فورا بن داؤد سپر سٹوز کے مالکان کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں اس نئے سپر سٹور کے متعلق کچھ معلومات، مشورے اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجاویز دیں- اسکو زندگی میں حیرت کا شدید ترین جهٹکا لگا جب مالکان نے اسکو نئے سپر سٹور کے ملازمین کا سامان رکھوانے سٹور کی تزئین و آرائش اور انکے چائے پانی کا خاص خیال رکھنے کا کہا اسکی حیرت کو ختم کرنے کیلئے بن داؤد سٹورز کے مالکان نے کہا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لائیں گے اور ہمارا رزق ہمارے ساتھ ہوگا- اپنے لکھے گئے رزق میں ہم ایک ریال کا اضافہ نہیں کرسکتے اگر اللہ چاہے- اور نئے سٹور والوں کے رزق میں ہم ایک ریال کی کمی نہیں کرسکتے اگر اللہ چاہے تو کیوں نا ہم بھی اجر کمائیں اور مارکیٹ میں نئے آنیوالے تاجر بھائی کو خوش آمدید کہہ کر ایک خوشگوار فضا قائم کریں- دوسرا واقعہ مشہور پولٹری کمپنی کا ہے- الفقیہ پولٹری کمپنی کے مالک نے مکہ مکرمہ میں ایک عظیم الشان مسجد(مسجد فقیہ) بھی تعمیر کی ہےاسکی منافس کمپنی الوطنیہ چکن لاکهوں ریالوں کی مقروض ہوکر دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی- فقیہ کمپنی کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اپنی مخالف کمپنی کے مالک کو ایک خط بھیجا اور ساتھ ایک دس لاکھ ریال سے زائد کا چیک بھیجا- اس خط میں لکھا تھا- "میں دیکھ رہا ہوں کہ تم دیوالیہ پن کے قریب کهڑے ہو، میری طرف یہ رقم قبول کرو، اگر مزید رقم کی ضرورت ہے تو بتاؤ- پیسوں کی واپسی کی فکر مت کرنا- جب ہوئے لوٹا دینا-"  اب دیکھئے کہ ارب پتی شیخ الفقیہ کے پاس الوطنیہ کمپنی خریدنے کا ایک نادر موقع تھا لیکن اس نے اپنے سب سے بڑے مخالف کی مالی مدد کرنے کو ترجیح دی-
حاصل کلام:-  اوپر بیان کیئے گئے دو سچے واقعات آپکو اسلامی تجارت کے اصولوں سے متعارف کراتے ہیں، کسی مخالف کمپنی سے پریشان نا ہوں، اگر آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے اور کسی پر احسان کرتے تو اللہ تعالٰی آپ کا بازو پکڑ کر آپکو کامیابی کی معراج تک پہنچا دیتے- یاد رکهیں،،،، کسی کی ٹانگ کھینچنے سے آپکا رزق زیادہ نہیں ہوگااسکے جو نصیب کا ہے اسکو مل کر رہے گا-
SEE MORE


Friday, April 26, 2019

April 26, 2019

These Are Best places to buy fish in Karachi Sindh Pakistan


These Are Best places to buy fish in Karachi Sindh Pakistan

1.        Empress Market Karachi
Empress market is one of the oldest markets of Karachi of the British Raj times. It  is still one of the most popular and busy markets of Karachi. There are many fish suppliers here and you can find good rates here

2. Punjab Colony 


Located near Defence, Punjab Colony has one of the best, affordable and huge variety of different kinds of sea food. I personally buy fish from here and each time its very fresh and tasty. *But always be vigilant when you buy fish from here because some of the fish mongers can be tricky in weighing the meat.

3.   Korangi Fish Harbors:
Compared to Punjab Colony, fish here is  more economical because its closer to the port.
4.   Hyperstar, Dolmen City:
Fot those who simply want to buy fish easy way then Hyperstar, Dolmen City is the place to be. Prawn, squids, tuna, pomfret you name it they have it. But the price range has a difference of Rs200- 300 as compared to other places.

Karachi Port
This is the original source of fish not only in Karachi but 90% of fish in Pakistan is exported from here.
Better choose early mornings to go there and you can buy fish in wholesale rates directly from the fisherman.

Wednesday, April 17, 2019

April 17, 2019

7 SEVEN BENEFITS OF SELF-EMPLOYEED


7 SEVEN BENEFITS OF SELF-EMPLOYEED

7 SEVEN BENEFITS OF SELF-EMPLOYMENT 

First of All, One thing which is fear of becoming self-employed often scuppers many great, profitable ideas. Yes, there is no denying that being self-employed has its challenges and that not everyone has what it takes to grow a successful business. But if you feel that you have a great idea, are persistent, determined and resourceful, then being self-employed offers a potential lifestyle you’ll never realize as an employee. What follows is a list of 07 of the biggest benefits of stepping out of your comfort zone and becoming self-employed.


1. You get to choose your hours
Being self-employed means you get to choose when you work. Rather than being contracted to set hours, you can start as early or late as you want. Although this inevitably provides a much desired level of flexibility, the self-employed entrepreneur must be disciplined in order to run a successful enterprise. Balancing work and family life can be difficult, but running your own business affords you the ability to take time-out when needed. As long as you’re realistic and don’t award yourself too many vacations, a well-run business provides many lifestyle benefits you simply don’t get as an employee.

2. You get to work with people you like
When you’re an employee, you work with people you like and others you very much dislike throughout your career. As an employee, you don’t get to choose whom you work with. If you don’t like your co-workers, tough. But that’s not the case when you own your own business. You get to make the decisions about who to hire and fire, and you can build a team aligned to your personality and goals.



3. You get the rewards
Sure, as an employee you’ll get paid overtime for putting in the extra hours. But you’ll rarely get a share of the profits generated from that work. Whereas when you’re self-employed, you get to see the financial results of your hard work. Yes, starting a business is never without risk, But if you get it right, the rewards far outweigh that risk.
4. You can follow your passion
If it’s just about the money, forget it. The most successful business owners are rarely purely motivated by money. Invariably, they love their product or service or just love building a business. They want to make things better, cheaper or easier. Being self-employed helps you escape the trap of working in a job you hate and allows you to turn your passions into a business.
5. You create
Being creative is uniquely satisfying. The very best entrepreneurs are often creative people with a desire to solve problems and make life better. In fact, the actual process of building a business is creative in and of itself. When you own your own business, you get to shape the dreams of yourself and others. You’re always building.
6. You get to help people
Being able to help people is one of the main benefits of being self-employed and running a business. Even a very small local business helps people by creating jobs and supporting a community. Maybe you’d love to create a program that improves education among children? Or create a service that improves the lives of local families? Owning your own business can help you achieve these goals.
07. You control your life
Many entrepreneurs are the type of people that like to take control and make decisions. As a self-employed business owner you have the freedom to make decisions that shape the present and future for yourself and your family. Your destiny is in your own hands. As an employee, however, your financial status is intrinsically linked to the success of your employer.




Saturday, March 30, 2019

March 30, 2019

BUSINESS IN PAKISTAN |URDU| HINDI | SINDHI 2019-20

BUSINESS IN PAKISTAN |URDU|  HINDI | SINDHI 2019-20
Attaullah Kehar 
بزنس کے 21 رہنما اصول

کاروبار شروع کرنے کے لیے صرف سرمائے کے ساتھ ساتھ عقل مندی، دیانت داری، ایمان داری اور تجربے کی بھی بہت اہمیت ہے۔ کوئی بھی کاروبار اسلام کے اصولوں اور ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور حیات طیبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو اس میں برکت تو ہے ہی، وہ دیگر کاروباروں میں یقیناً ایک نمایاں مقام حاصل کر لیتا ہے۔ ذیل میں چند کار آمد باتیں ذکر کی جاتی ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر بآسانی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے اور اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔

1
نوعیت کا تعین: سب سے پہلے تو اس بات کا تعین کیا جائے کہ کاروبار کس نوعیت کا کرنا ہے۔ کاروبار کی اہم تین قسمیں ہیں:
2:
تجربہ شرط: ان تینوں میں سے کسی ایک کاروبار کا تعین کریں، جس کاروبار کا آپ کچھ تجربہ رکھتے ہیں۔ تجربے کی بنیاد پر شروع کیا جانے والا کاروبار کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ تجربہ حاصل کرنے کے لیے کسی اچھے اور ماہر کاروباری شخص کے ساتھ وقت گزاریں۔ کاروبار کی سوجھ بوجھ لیں۔ اس کی پیچیدگیوں کو سمجھیں۔ اس کے لیے آپ اس کے کاروبار میں کچھ وقت لگائیں، خواہ وہ وقت نوکری کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ 
3:
سرمایہ کیسا؟ اس کے بعد اپنے سرمائے کی نوعیت دیکھیں۔ سود پر پیسہ دینے والی کمپنیوں (بینک وغیرہ) کی مدد سے کاروبار ہرگز نہ کریں۔ سود اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان ہے۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آج تک کوئی طاقت جیت نہیں سکی۔ جتنا سرمایہ آسانی سے میسر ہو سکے۔ اسی کو لے کر اللہ تعالی کے نام سے کاروبار شروع کر دیں۔ 
4:
حفاظتی تدابیر: اس کے بعد اپنے طے کردہ کاروبار کو دیکھتے ہوئے جگہ (Location) کا تعین کریں، جو ہر لحاظ سے آپ کے کاروبار کے لیے مفید ہو۔ مثلاً آپ اور آپ کے ملازمین کو آمد و رفت میں کوئی دقت اور مشکل نہ ہو۔ اشیا کے نقل و حمل میں پریشانی نہ ہو۔ حفاظتی اعتبار سے بھی جگہ پُر امن ہو۔ 


5:
چھوٹا کاروبار، رسک کم: کاروبار کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ بہت بڑے پیمانے پر ہو، بلکہ کاروبار جتنے چھوٹے پیمانے پر شروع کریں گے، اتنا رسک کم ہو گا۔ جب کاروبار شروع کر دیں گے، اس کے ساتھ آپ کا تجربہ بڑھتا جائے گا۔ پھر تجربے کی بنیاد پر وقت کے ساتھ ساتھ کاروبار وسیع کرتے جائیں۔ اس طرح آپ کو نقصان پہنچنے اور کاروبار ڈوبنے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔ 
6:
باصلاحیت عملہ: کاروبار کی ابتداء ہی سے بہترین ملازمین کو بھرتی کرنا ضروری ہے۔ ان میںکام کرنے کی اہلیت اور قابلیت ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، ایمان داری اور دلچسپی جیسی چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے نوجوان نسل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ نوجوانوں میں جو لگن اور جذبہ ہوتا ہے، وہ عمر کے کسی بھی حصے میں نہیں ہوتا۔ ان کو صرف موقع کی تلاش ہوتی ہے جو کہ آپ جیسے کاروباری لوگ ان کو فراہم کر سکتے ہیں۔ 
7:
حسن سلوک: کاروبار سے جڑے ہر شخص کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ خاص طور پر اپنے ملازمین کی ہر بنیادی سہولت کا خیال رکھیں۔ ان کی تنخواہ غیر معقول اور کم رکھنے کا تصور بھی نہ کریں۔ اگر آپ کے ملازمین آپ سے مطمئن نہیں ہوں گے، تو وہ آپ کی چاہت اور معیار کے مطابق آپ کو نتیجہ نہیں دیں گے۔ 
8:
حوصلہ افزائی: سالانہ یا ششماہی اپنے ملازمین کو bonus یا Reward دینے کی ترتیب بنائیں۔ یہ عمل ملازمین کے لیے سب سے بڑا محرک (Motivation) ہے۔ اس سے نہ صرف ملازمین اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں، بلکہ کبھی ضرورت پڑنے پر اضافی وقت بھی خوشی سے دیتے ہیں۔ 
9:
مارکیٹنگ، ایڈوٹائزنگ: اپنی حیثیت کے مطابق اپنے کاروبار کی مارکیٹنگ کریں۔ اس کے لیے اشتہارکی مہم بھی چلائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عوام الناس کو آگاہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کریں۔ تاہم ضروری ہے آپ کی ایڈوٹائزنگ اور مارکیٹنگ اللہ کے احکامات سے ہرگز متصادم نہ ہو۔ ایڈوٹائزنگ کے شریعہ کمپلائنس طریقے اختیار کرنے میں جدّت بھی ہے اور برکت بھی۔ 
10:
چیک اینڈ بیلنس: کاروبارکی ابتداء سے اصول پسند، مضبوط، ایماندار مینجمنٹ کا انتخاب کریں۔ اپنے کاروبار کے ہر حصے میں چیک اینڈ بیلنس (Check & Balance) رکھیں۔ ہر شخص کو اس کی قابلیت جانچنے کے بعد اس کے مطابق کام سونپیں اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی (Performance) طلب کریں۔ اس سے تمام ملازمین میں ذمہ داری پیدا ہو گی اور جواب دہ ہونے کا ڈر بھی ہو گا۔ 
11:
اپنا حصہ ڈالیں: اپنے کاروبار کے ہر نوعیت کے کام خود بھی انجام دیتے رہا کریں، خواہ اس کام کے لیے ملازمین ہی کیوں نہ ہوں، تاکہ غیر متوقع حالات آنے پر آپ ہر مسئلے سے نمٹ سکیںاور دوسروں کی محتاجی کی ضرورت نہ ہو، ورنہ آپ کا کاروبار آپ کے سامنے ڈوب رہا ہوگا اور آپ ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔ 
12 :
حکمت عملی: کاروبار سے جڑے اہم لوگوں میں گاہک کا نمبر سب سے پہلے آتا ہے۔ گاہک کو خوش اور مطمئن رکھنے کا آسان ترین حل اشیا کا اعلیٰ معیار اور کم قیمت ہے۔ پرانے اور مستقل گاہک کو وقت پر ان کی اشیا فراہم کریں۔ اگر گاہک کو آپ کے ذریعے بروقت، معیاری اور سستی چیز فراہم ہو گی، وہ آپ کے علاوہ کہیں اور رجوع کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ 
13:
رعایت برتیں: چھوٹے گاہک کا بھی بہت خیال رکھیں۔ انہیں ضرورت کے وقت کم قیمت پر ادھار اشیا فراہم کریں، تاکہ ان کو بھی کمانے کا موقع ملے۔ ان کے ساتھ ہرگز سود کا معاملہ نہ رکھیں۔ ان کو کچھ وقت کی مہلت دیں تاکہ وہ آپ کی اشیا فروخت کر کے آپ کے پیسے بھی لوٹا سکیں اور خود بھی دو پیسے کما سکیں۔ 
14:
امانت داری: جھوٹ بول کر اشیا فروخت نہ کریں۔ امانت داری کے ساتھ گاہک کو اس کی ڈیمانڈ کے مطابق اشیا فراہم کریں۔ امانت داری سے پیسہ کمانے میں بہت برکت ہے۔ 
15:
اخلاقیات کا لحاظ: اشیا فروخت کرنے میں گاہک کو جتنی سہولت فراہم کر سکتے ہیں، اس میں کوتاہی نہ کریں۔ اس سے آپ کے کاروبار کی کارکردگی پر بھی اثر پڑے گا اور اخلاقی اعتبار سے بھی یہ اچھی بات ہے۔ اس طرح آپ مارکیٹ میں اپنی ساکھ بنا سکتے ہیں جو آپ کے کاروبار کی ترقی کے لیے تیر بہدف ہے۔ 16 دلکش پیکنگ: پروڈکٹ کی کوالٹی کے ساتھ ساتھ پیکنگ کا بھی خیال رکھیں۔ پیکنگ مضبوط اور دل کش ہو، اس سے گاہک متاثر اور متوجہ بھی ہوتا ہے۔ 
17:
رعایتی اسکیمیں: وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمیں متعارف کروائیں، جس سے گاہک آپ کی اشیا کو خریدنے میں اپنا فائدہ سمجھے اور ان کو بچت بھی ہو۔ 
18:
حسد کا نقصان: اپنے ہم پیشہ کاروباری افراد سے اچھے تعلقات قائم کریں، بجائے اس کہ ان سے حسد اور جلن رکھی جائے۔ آپ کی اس عادت سے آپ کا دھیان اپنے کاروبار سے زیادہ ان کے کاروبار کی طرف ہو گا، جو آپ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ حسد کرنے والے کو اللہ اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت ناپسند فرمایا ہے۔ 
19:
بدلتے حالات کے ساتھ: روزانہ کاروباری خبروں پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو مارکیٹ کی مکمل معلومات ہوں، بدلتے حالات سے باخبر رہیں، تاکہ اس کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ 
20 :
با اصول شہری کی طرح: حکومت کے قوانین پر امانت داری سے عمل کریں۔ اپنا ٹیکس بچانے کے لیے جھوٹی رپورٹیں پیش نہ کریں۔ جتنا آپ پر ٹیکس بنتا ہے، پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کریں۔ 
21 :
وبال سے بچاؤ کے لیے: وقت پر زکوۃ ادا کریں، کیونکہ زکوۃ دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔









Friday, March 29, 2019

March 29, 2019

EARN MONEY ONLINE EASY THROUGH THIS WAYS 2019 TO 2030

ایک شام وہ دونوں مل بیٹھے اور جاب چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ۔۔ اپنے کام کے ماہر تھے اور محنتی بھی تو 2009 میں انہوں نے اپنی ایک کمپنی لانچ کی جس کا نام WatsApp رکھا گیا ۔ 2009 سے 2014 تک مسلسل محنت اور جدوجہد سے نام اور مقام بنایا اورپھر وقت نے کروٹ لی اور فیس بک بانی مارک نے اسے 19 بلین ڈالر میں خرید لیا ۔۔

یہ باہر کی بات ہے پاکستان آجائیے
2012 میں دراز کے نام سے ایک آن لائن شاپنگ کمپنی معرض وجود میں آئی اور خوب نام کمایا ، آن لائن شاپنگ کی دنیا اس کے کام کو دیکھ کر حیران ہوگئی ۔۔ چائنہ سے علی بابا کے مالک جیک ما نے اڑان بھری اور پاکستان لینڈ کیا ۔۔
بیچو گے ؟؟ “ جی ہاں “ قیمت بولو
475
ملین ڈالر” بس جو منہ میں آیا مالکان کو مل گیا اور دراز ڈاٹ پی کے فروخت ہوگئی ۔

اور آج کی تازہ خبر سنئے کاروں کی ایک کمپنی میں کام کرنے والے مدثر شیخ نے 2012 میں آن لائن سواری بکنگ کے لئے “ کریم “ نام سے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی ، تمام بڑے شہروں میں اسے لانچ کیا گیا اور اپنی عمر کے آٹھ کامیاب سال گزارنے کے بعد آج 3.1 بلین ڈالر میں اسے اوبر نے خرید لیا ۔۔
آپ اور میں کپڑا بیچتے ہیں ، عطر بیچتے ہیں ، شہد بیچتے ہیں ، چشمے اور شیشے بیچتے ہیں سرمہ اور کنگھی بیچتے ہیں لیکن یہاں دیکھئے لوگ کیا بیچ رہے ہیں اور کیسے ؟؟
بس سوچنا ہے سمجھنا ہے اور پھر کام پہ لگ جانا ہے
یہ تو ہوگئی کمپنیوں کی بات ۔۔ اب آپ کہیں گے اس کے لئے بہت بڑا سٹرکچر چاہئے ہوتا ہے ، پلاننگ چاہئے ہوتی ہے اور ٹیم ورک درکار ہوتا ہے واقعی ایسا ہی ہے آپ سچ کہہ رہے ہیں ، یہ ریٹس ایسے نہیں ملتے اس کے پیچھے پورا ایک پلان ہوتا ہے تب جاکر یہ ریٹ ملتے ہیں ۔۔
لیکن ایک اور بات نہ بتاؤں آپ کو ؟؟
یہاں تو الفاظ بھی بکتے ہیں ۔۔

جی ہاں ! انگریزی کے کچھ مخصوص الفاظ جنہیں انگلش میں Domain کہا جاتا ہے ۔ لوگوں نے اس پہ کام کیا ، اپنا ذہن استعمال کیا ، تکنیک سمجھی اور GoDady سے چند ڈالرز میں کچھ ڈومینز خرید کر رکھ لیں اور پھر مارکیٹ میں انہیں مہنگے داموں فروخت کیا گیاجیسے کہ
Insurance
یہ ڈومین 49.7$ ملین ڈالر میں فروخت ہوئی
Carinsurance
اسے 35.6$ملین میں بیچا گیا
Internet
یہ ڈومین 18$ملین میں فروخت ہوئی
یہ صرف چند مثالیں ہیں وگرنہ گوگل کی تاریخ بھری پڑی ہے گوگل کیجئے اور سمجھئے ۔
جب میں نے اس بزنس کو سمجھا تو ایک ڈومین 12 سو میں خرید کر رکھ لی اور دو سال بعد انتہائی مہنگے داموں فروخت کی گئی ۔پھر دھڑا دھڑ خریدنا اور بیچنا شروع کردیا گیا اس وقت بھی اچھی ڈومینز پینل پہ ہیں ۔۔
آپ بھی کچھ ایسا آئیڈیا سوچئے
اس پہ کام کیجئے
اور پھر فروخت کردیجئے
میری نظر میں کچھ ڈومینز ایسی ہیں جن کو اگر خرید کر رکھ لیا جائے تو اچھی قیمت دے سکتی ہیں ۔۔اس کے لئے انویسٹمنٹ چاہئے ، تجربہ چاہئے ، ان شاء اللہ اس بزنس کو پھیلانا اور بڑھانا ہے ۔۔اگر پیسے ڈبونے ہوں تو یہ کام کیجئے گا کیونکہ یہ کنویں میں پھینکنے والی بات ہے ۔۔ اور یہ بزنس آپ خود سے سیکھیں اگر 50 ہزار روپے تک الگ کر سکتے ہیں ، دوسرے لفظوں میں ڈبو سکتے ہیں