International News, Online Earning Ways, New Jobs , Tips & Tricks Life Changing Writing & Startup Business

BREAKING NEWS

اسلام علیکم دوستوں میرا نام عطاءاللہ خان ڪيهر ہے WELCOME TO MY BLOG SUBSCRIBE MY BLOG BY ADDING EMAIL ???? "Attaullah Kehar" AND SEE SOMETHING NEW WhatsApp =+923083033205

Showing posts with label KAMYAB. Show all posts
Showing posts with label KAMYAB. Show all posts

Saturday, March 30, 2019

March 30, 2019

BUSINESS IN PAKISTAN |URDU| HINDI | SINDHI 2019-20

BUSINESS IN PAKISTAN |URDU|  HINDI | SINDHI 2019-20
Attaullah Kehar 
بزنس کے 21 رہنما اصول

کاروبار شروع کرنے کے لیے صرف سرمائے کے ساتھ ساتھ عقل مندی، دیانت داری، ایمان داری اور تجربے کی بھی بہت اہمیت ہے۔ کوئی بھی کاروبار اسلام کے اصولوں اور ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور حیات طیبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو اس میں برکت تو ہے ہی، وہ دیگر کاروباروں میں یقیناً ایک نمایاں مقام حاصل کر لیتا ہے۔ ذیل میں چند کار آمد باتیں ذکر کی جاتی ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر بآسانی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے اور اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔

1
نوعیت کا تعین: سب سے پہلے تو اس بات کا تعین کیا جائے کہ کاروبار کس نوعیت کا کرنا ہے۔ کاروبار کی اہم تین قسمیں ہیں:
2:
تجربہ شرط: ان تینوں میں سے کسی ایک کاروبار کا تعین کریں، جس کاروبار کا آپ کچھ تجربہ رکھتے ہیں۔ تجربے کی بنیاد پر شروع کیا جانے والا کاروبار کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ تجربہ حاصل کرنے کے لیے کسی اچھے اور ماہر کاروباری شخص کے ساتھ وقت گزاریں۔ کاروبار کی سوجھ بوجھ لیں۔ اس کی پیچیدگیوں کو سمجھیں۔ اس کے لیے آپ اس کے کاروبار میں کچھ وقت لگائیں، خواہ وہ وقت نوکری کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ 
3:
سرمایہ کیسا؟ اس کے بعد اپنے سرمائے کی نوعیت دیکھیں۔ سود پر پیسہ دینے والی کمپنیوں (بینک وغیرہ) کی مدد سے کاروبار ہرگز نہ کریں۔ سود اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان ہے۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آج تک کوئی طاقت جیت نہیں سکی۔ جتنا سرمایہ آسانی سے میسر ہو سکے۔ اسی کو لے کر اللہ تعالی کے نام سے کاروبار شروع کر دیں۔ 
4:
حفاظتی تدابیر: اس کے بعد اپنے طے کردہ کاروبار کو دیکھتے ہوئے جگہ (Location) کا تعین کریں، جو ہر لحاظ سے آپ کے کاروبار کے لیے مفید ہو۔ مثلاً آپ اور آپ کے ملازمین کو آمد و رفت میں کوئی دقت اور مشکل نہ ہو۔ اشیا کے نقل و حمل میں پریشانی نہ ہو۔ حفاظتی اعتبار سے بھی جگہ پُر امن ہو۔ 


5:
چھوٹا کاروبار، رسک کم: کاروبار کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ بہت بڑے پیمانے پر ہو، بلکہ کاروبار جتنے چھوٹے پیمانے پر شروع کریں گے، اتنا رسک کم ہو گا۔ جب کاروبار شروع کر دیں گے، اس کے ساتھ آپ کا تجربہ بڑھتا جائے گا۔ پھر تجربے کی بنیاد پر وقت کے ساتھ ساتھ کاروبار وسیع کرتے جائیں۔ اس طرح آپ کو نقصان پہنچنے اور کاروبار ڈوبنے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔ 
6:
باصلاحیت عملہ: کاروبار کی ابتداء ہی سے بہترین ملازمین کو بھرتی کرنا ضروری ہے۔ ان میںکام کرنے کی اہلیت اور قابلیت ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، ایمان داری اور دلچسپی جیسی چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے نوجوان نسل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ نوجوانوں میں جو لگن اور جذبہ ہوتا ہے، وہ عمر کے کسی بھی حصے میں نہیں ہوتا۔ ان کو صرف موقع کی تلاش ہوتی ہے جو کہ آپ جیسے کاروباری لوگ ان کو فراہم کر سکتے ہیں۔ 
7:
حسن سلوک: کاروبار سے جڑے ہر شخص کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ خاص طور پر اپنے ملازمین کی ہر بنیادی سہولت کا خیال رکھیں۔ ان کی تنخواہ غیر معقول اور کم رکھنے کا تصور بھی نہ کریں۔ اگر آپ کے ملازمین آپ سے مطمئن نہیں ہوں گے، تو وہ آپ کی چاہت اور معیار کے مطابق آپ کو نتیجہ نہیں دیں گے۔ 
8:
حوصلہ افزائی: سالانہ یا ششماہی اپنے ملازمین کو bonus یا Reward دینے کی ترتیب بنائیں۔ یہ عمل ملازمین کے لیے سب سے بڑا محرک (Motivation) ہے۔ اس سے نہ صرف ملازمین اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں، بلکہ کبھی ضرورت پڑنے پر اضافی وقت بھی خوشی سے دیتے ہیں۔ 
9:
مارکیٹنگ، ایڈوٹائزنگ: اپنی حیثیت کے مطابق اپنے کاروبار کی مارکیٹنگ کریں۔ اس کے لیے اشتہارکی مہم بھی چلائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عوام الناس کو آگاہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کریں۔ تاہم ضروری ہے آپ کی ایڈوٹائزنگ اور مارکیٹنگ اللہ کے احکامات سے ہرگز متصادم نہ ہو۔ ایڈوٹائزنگ کے شریعہ کمپلائنس طریقے اختیار کرنے میں جدّت بھی ہے اور برکت بھی۔ 
10:
چیک اینڈ بیلنس: کاروبارکی ابتداء سے اصول پسند، مضبوط، ایماندار مینجمنٹ کا انتخاب کریں۔ اپنے کاروبار کے ہر حصے میں چیک اینڈ بیلنس (Check & Balance) رکھیں۔ ہر شخص کو اس کی قابلیت جانچنے کے بعد اس کے مطابق کام سونپیں اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی (Performance) طلب کریں۔ اس سے تمام ملازمین میں ذمہ داری پیدا ہو گی اور جواب دہ ہونے کا ڈر بھی ہو گا۔ 
11:
اپنا حصہ ڈالیں: اپنے کاروبار کے ہر نوعیت کے کام خود بھی انجام دیتے رہا کریں، خواہ اس کام کے لیے ملازمین ہی کیوں نہ ہوں، تاکہ غیر متوقع حالات آنے پر آپ ہر مسئلے سے نمٹ سکیںاور دوسروں کی محتاجی کی ضرورت نہ ہو، ورنہ آپ کا کاروبار آپ کے سامنے ڈوب رہا ہوگا اور آپ ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔ 
12 :
حکمت عملی: کاروبار سے جڑے اہم لوگوں میں گاہک کا نمبر سب سے پہلے آتا ہے۔ گاہک کو خوش اور مطمئن رکھنے کا آسان ترین حل اشیا کا اعلیٰ معیار اور کم قیمت ہے۔ پرانے اور مستقل گاہک کو وقت پر ان کی اشیا فراہم کریں۔ اگر گاہک کو آپ کے ذریعے بروقت، معیاری اور سستی چیز فراہم ہو گی، وہ آپ کے علاوہ کہیں اور رجوع کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ 
13:
رعایت برتیں: چھوٹے گاہک کا بھی بہت خیال رکھیں۔ انہیں ضرورت کے وقت کم قیمت پر ادھار اشیا فراہم کریں، تاکہ ان کو بھی کمانے کا موقع ملے۔ ان کے ساتھ ہرگز سود کا معاملہ نہ رکھیں۔ ان کو کچھ وقت کی مہلت دیں تاکہ وہ آپ کی اشیا فروخت کر کے آپ کے پیسے بھی لوٹا سکیں اور خود بھی دو پیسے کما سکیں۔ 
14:
امانت داری: جھوٹ بول کر اشیا فروخت نہ کریں۔ امانت داری کے ساتھ گاہک کو اس کی ڈیمانڈ کے مطابق اشیا فراہم کریں۔ امانت داری سے پیسہ کمانے میں بہت برکت ہے۔ 
15:
اخلاقیات کا لحاظ: اشیا فروخت کرنے میں گاہک کو جتنی سہولت فراہم کر سکتے ہیں، اس میں کوتاہی نہ کریں۔ اس سے آپ کے کاروبار کی کارکردگی پر بھی اثر پڑے گا اور اخلاقی اعتبار سے بھی یہ اچھی بات ہے۔ اس طرح آپ مارکیٹ میں اپنی ساکھ بنا سکتے ہیں جو آپ کے کاروبار کی ترقی کے لیے تیر بہدف ہے۔ 16 دلکش پیکنگ: پروڈکٹ کی کوالٹی کے ساتھ ساتھ پیکنگ کا بھی خیال رکھیں۔ پیکنگ مضبوط اور دل کش ہو، اس سے گاہک متاثر اور متوجہ بھی ہوتا ہے۔ 
17:
رعایتی اسکیمیں: وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمیں متعارف کروائیں، جس سے گاہک آپ کی اشیا کو خریدنے میں اپنا فائدہ سمجھے اور ان کو بچت بھی ہو۔ 
18:
حسد کا نقصان: اپنے ہم پیشہ کاروباری افراد سے اچھے تعلقات قائم کریں، بجائے اس کہ ان سے حسد اور جلن رکھی جائے۔ آپ کی اس عادت سے آپ کا دھیان اپنے کاروبار سے زیادہ ان کے کاروبار کی طرف ہو گا، جو آپ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ حسد کرنے والے کو اللہ اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت ناپسند فرمایا ہے۔ 
19:
بدلتے حالات کے ساتھ: روزانہ کاروباری خبروں پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو مارکیٹ کی مکمل معلومات ہوں، بدلتے حالات سے باخبر رہیں، تاکہ اس کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ 
20 :
با اصول شہری کی طرح: حکومت کے قوانین پر امانت داری سے عمل کریں۔ اپنا ٹیکس بچانے کے لیے جھوٹی رپورٹیں پیش نہ کریں۔ جتنا آپ پر ٹیکس بنتا ہے، پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کریں۔ 
21 :
وبال سے بچاؤ کے لیے: وقت پر زکوۃ ادا کریں، کیونکہ زکوۃ دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔









Saturday, March 9, 2019

March 09, 2019

اشفاق احمد کہتے ہیں

اشفاق احمد کہتے ہیں

*اشفاق احمد کہتے ہیں،*
میں نے اپنے بابا جی کو بہت ہی فخرسے بتایا کہ میرے پاس دو گاڑیاں ہیں اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔ 
میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللّہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔ 
میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی۔۔۔ 
تو بابا جی نے کہا
اشفاق احمد، میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے س خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔ 
میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بِنا محنت کیے، اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔ 
ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مُٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں۔ کبھی شمال، کبھی جنوب۔

سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اُسکا پیٹ بھی نہیں بھرا۔"
بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا:
بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟"
میں نے فٹ سے جواب دیا:
نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔"
بابا بولا :
بالکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّہ تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تُو نے اللّہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔"
بابا عجیب سی ترنگ میں بولا، *" پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی حاصل کرنے اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ سن لے۔ اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والا، ان کی تعریف کرنے والا، ان سے مسکرا کے بات کرنے والا اور دوسروں کو مُعاف کرنے والا کبھی مفلس نہیں رہتا۔ آزما کر دیکھ لو، اب بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شُکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کرلو، تو امر ہو جاؤ گے۔"

March 09, 2019

دنیا کے ایک کامیاب شخص کی زندگی کے گیارہ فارمولے

دنیا کے ایک کامیاب شخص امیر شخص


دنیا کے ایک کامیاب شخص کی زندگی کے گیارہ فارمولے



ایک۔ تنخوہ مت لیں‘ تنخواہ آپ کو کبھی دولت مند نہیں بنائے گی۔

دو۔ آپ اپنی رقم سے کبھی سرمایہ کاری نہ کریں‘ سرمایہ کاری صرف دولت کی حفاظت کرتی ہے‘ یہ آپ کو دولت مند نہیں بناتی‘ آپ کو ہمیشہ سرمایہ کاری سے پہلے سرمایہ پیدا کرنا چاہیے۔

تین۔ آپ روزانہ خوشحالی کے دس آئیڈیاز سوچیں ‘ یہ دس آئیڈیاز آپ کےلئے خوشحالی کا خزانہ ثابت ہوں گے۔

چار۔ آپ زندگی میں کبھی چائے‘ کافی اور ٹیکسی کی بچت نہ کریں‘ پیسے بچانے کےلئے بس پر سفر نہ کریں کیونکہ دنیا میں آج تک کوئی شخص بچت سے امیر نہیں ہوا‘امارت زیادہ پیسے کمانے سے آتی ہے بچت سے نہیں۔

پانچ۔ آپ لکھنا سیکھیں‘ لکھنے سے انسانی دماغ میں اضافہ ہوتا ہے‘ آپ میں سوچنے سمجھنے کی اہلیت بڑھتی ہے اور سوچنے سمجھنے والے لوگ کبھی غریب نہیں رہتے۔

چھ۔ آپ کے پاس اگر رقم ہے تو آپ کبھی اس رقم کا 50 فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری پر خرچ نہ کری 50 فیصد رقم اپنے پاس رکھیں‘ یہ 50فیصد رقم آپ کے اعتماد میں اضافہ کرے گی‘ میں نے زندگی میں بے شمار ایسے کروڑ پتی دیکھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دولت سے نواز رکھا تھا‘ انہوں نے اپنی دولت مختلف منصوبوں پر لگا رکھی تھی اور کروڑپتی ہونے کے باوجود ان کی جیبیں خالی تھیں۔

سات۔ آپ کبھی ایسا کاروبار نہ کریں جس میں زیادہ مقابلہ ہو‘ ایسا کاروبار کریں جس میں آپ اپنی اجارہ داری قائم کر سکیں۔

آٹھ۔ چوبیس گھنٹے میں آٹھ گھنٹے سونا سب سے اچھی سرمایہ کاری ہے۔

نو۔ آپ ہمیشہ ان لوگوں کو وقت دیں جو آپ سے محبت کرتے ہیںنہ کہ ان لوگوں کو جن کے لئے آپ بے وقعت ہیں یا جن کو آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


دس۔ آپ سارا دن ان نعمتوں پر شکر ادا کریں‘اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو عنایت کر رکھی ہیں‘ شکر انسان کی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔

گیارہ۔ آپ اپنے اوپر ‘ اپنے جسم پر‘ اپنے ذہن پر اور اپنے تجربے پر اعتماد کریں‘ آپ صحیح اور غلط کے بارے میں دوسروں سے پوچھنے کے بجائے اپنے آپ سے سوال کریں‘ دنیا میں آپ کا آپ سے بڑا کوئی دوست نہیں‘ آپ اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے سکتے




ھماری کامیابی وترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ھے؟
اعلی' تعلیمی ڈگری کا نہ ھونا؟
سرمائے کی کمی؟بے ھنری؟
نہیں! ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں،ھماری ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ایک جملہ ھے۔۔۔"لوگ کیا کہیں گے"

یہ ایک غیر مرئی دیوار ھے جس کی دوسری طرف کامیابی ھماری منتظر ھوتی ھے لیکن ھم کم ھمت لوگ اس دیوار کو پھلانگ نہیں پاتے،اور جو باھمت لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے انہیں کامیاب ھونے سے کوئی چیز روک نہیں پاتی۔
میرے پاس بے شمار مثالیں ہیں ایسے لوگوں کی جنہوں نے غربت میں آنکھ کھولی،امیری کا خواب دیکھا اور پھر زمانے سے ٹکرا گئے اور راستے میں جو کچھ آیا اسے قدموں تلے روند کر کامیابی تک جاپہنچے۔

اسی نوے فیصد لوگ پاکستان سے باہر جاکر کامیاب ھوجاتے ہیں،وجہ یہ نہیں ھوتی کہ وھاں ان کے ھاتھ الہ دین کا چراغ لگ جاتا ھے،وہاں صرف یہ بات نہیں ھوتی کہ لوگ کیا کہیں گے۔۔گھٹیا سے گھٹیا کام بھی وہ کرتے ہیں(حالانکہ میری نظر میں کام گھٹیا ھوتا ہی نہیں)اور یہ صرف کام اور مسلسل محنت ھوتی ھے جو انہیں کامیابی سے ھمکنار کرتی ھے،بہت سارے سال بیرون ممالک گزار کر ایک بات میں دعوے سے کہہ سکتا ھوں کہ جتنی محنت ھم باہر کرتے ھیں وہی اگر پاکستان میں کرلیں تو کامیابی یقینی ھے،لیکن یہاں تو ھم چکڑ چوھدری بنے ھوتے ھیں،کوئی چھوٹا موٹا کام تو ھماری نظر پر ہی نہیں آتا،پھر ساتھ میں تعلیم کا گمان۔۔



تعلیم کے بہت سے دوسرے فوائد ہیں جو ہر شعبہء زندگی میں کام آتے ھیں،تعلیم کو صرف نوکری سے نتھی کرنا خود کو اپاھج کرنے کے مترادف ھے۔۔

اور ایک اور پتے کی بات ہر چھوٹے کام میں بڑا پیسہ ھے،اب فیصلہ ھمارے ھاتھ میں ھے،کاٹن پہن کر چکڑ چوھدری بن کر خالی جیب پھرنا ھے یا کوئی بھی چھوٹا موٹا کام کرکے پیسہ کمانا ھے۔۔۔



ایک اور راز کی بات۔۔


آج جتنے سیٹھ سرمایہ دار،بڑے اور امیر لوگ ھیں،ان سے پوچھ لیں انہوں نے زندگی کا سٹارٹ کسی چھوٹے کام سے ہی لیا تھا اور ویسے بھی بندہ جب عاجزی اختیار کرتا ھے تو اللہ پاک کو اسکی عاجزی اتنی پسند آتی ھے کہ وہ اس کا مرتبہ بلند کردیتا ھے۔

اگر میں اپنی مثال دوں تو آج سے گیارا سال پہلے میں نے اپنے ایک عزیز کے پاس پندرہ سو ہفتہ پر کام شروع کیا آج الحمدوللہ اپنا باعزت کاروبار ھے دس بارہ لوگ میرے پاس کام کرتے ھیں،اللہ پاک کے پاس بے بہا خزانے ہیں بس کوئی مانگنے اور کوشش کرنے والا ھو تو وہ بے حدو حساب دیتا ھے،آپ بھی بسمہ اللہ کریں اور آغاز کریں۔۔

اٹھ باندھ کمر ، کیا ڈرتا ھے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ھے







ثابت قدمی کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے؟
چار سادہ اقدامات سے ثابت قدمی کی عادت پیدا ہو تی ہے۔ یہ زیادہ ذہانت اور نہ ہی یہ زیادہ تعلیم کا تقاضا کرتے ہیں مگر ان کے لیے کچھ وقت اور کچھ کوشش درکار ہوتی ہے۔
ضروری اقدامات یہ ہیں
ایک واضح مقصد جس کے پیچھے اس کی تکمیل کی شیدید خواہش ہو۔
ایک واضح منصوبہ جس کا اظہار مسلسل عمل سے کیا جائے۔

تمام منفی اور حوصلہ شکن اثرات بشمول ، رشتہ داروں ، دوستوں اور واقف کاروں کی تمام منفی تجاویز کا اثر قبول نہ کرنے والا ذہن۔
ایک یا زیادہ لوگوں کے ساتھ دوستانہ اتحاد جو منصوبے اور مقصد کے حصول کی پیروی کے لیے حوصلہ افزائی کریں
۔
(سوچیے اور امیر ہو جائیے، نپولین ہل)

رحم دلی وہ زبان ہے جسےاندھا دیکھ اور بِہراسُن سکتا ہےخاموشی ایسا درخت ہے جس پر کڑوا پھل نہیں لگتاحسد ایسا دیمک ہے جو انسان کو اندراور باہر سے ختم کرتی ہےسچائی ایسی دوا ہے جس کی لذت کڑوی مگر تاسیر شہد سے زیادہ میٹھی ہے ذہانت ایسا نادر پودا ہے جو محنت کے بغیر نہی لگتا اور خوش اخلاقی ایسی خوشبو ہے جو میلوں دور سے محسوس کی جا سکتی ہے
دنیا کے کامیاب بزنس مین وارن بفیٹ
نے لوگوں کو کامیابی کے راز بتا تے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا میں لوگ ایسارویہ اپنا لیں جو اس نے اپنا کر کامیابی حاصل کی اور دوسری لوگ بھی اس پر عمل کرکے کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔آئیے اس کی جانب سے بتائی گئی چند باتیں دیکھتے ہیں۔
اپنے گرد کامیا ب لوگوں کو رکھیں
وارن کا خیال ہے کہ ہمیشہ ایسے لوگو ں کو اپنے گرد رکھیں جو خود کامیاب زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ اس طرح آپ بھی زندگی کی کامیاب ہونے کی کوشش کریں گے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنے بچوں کو بتاتا ہوں کہ اگر انہوں نے شاہین بننا ہے تو پھر انہیں کبوتر کے ساتھ زندگی گزارنا چھوڑنا ہوگا۔



کفایت شعاری



اربوں روپے کا مالک ہونے کے باوجود آج بھی وارن انتہائی کفایت شعار ہے اور آج بھی اسی گھر میں رہتا ہے جو اس نے 1958ءمیں ساڑھے اکتیس ہزار ڈالر میں لیا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری ایک اچھی چیز ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ کامیاب زندگی کے لئے اسے اپنائیں۔


خطرہ مول لینا(رسک لینا

زندگی گزارنے کے لئے دو طرح کے رجحانات پر عمل کیا جا سکتا ہے یعنی بڑا رسک لے کر بڑا کام فوراًکرنایا پھر رسک نہ لے کر آہستہ آہستہ کام کرنا۔ گو کہ رسک نہ لے کر کام کرنے سے زندگی تو گزر جاتی ہے لیکن کامیابی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

ساکھ کا خیال رکھیں
اس کا کہنا ہے کہ ہمیشہ اپنی کمپنی اور کاروبار کی ساکھ کا خیال رکھیں کیونکہ اسے بنانے کے لئے سالوں لگ جاتے ہیں اور یہ صرف پانچ منٹ میں خراب ہو جاتی ہے۔

ایک غلط قدم

انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور وہ غلطیوں سے سیکھتا ہے لیکن

 بار بار ایک جیسی غلطی کرنا غلط بات ہے۔ وارن نے بھی 1990ءمیں ایک کمپنی 400ملیں ڈالرز کی لی تھی اور غلطیوں کے بعد یہ کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ اس پر وارن کا کہنا ہے کہ میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ غلطی کرنا ایک عام بات ہے لیکن ہمیشہ غلطی سے سیکھیں۔

مستقل مزاج رہیں لیکن ضد مت کریں

اگر آپ کو نقصان ہو رہا ہے تو ضد مت کریں کہ آپ یہ کام کر کے رہیں گے۔ گو کہ مستقل مزاجی ایک اچھی بات ہے لیکن ضد کرنا اچھی بات نہیں کیونکہ اس سے نقصان ہونے کا احتما ل ہے۔





یہ تحریر کا مقصد ہے کہ آپ کو اس سے تھوڑا بھی فائدہ ہوگیا نہ تو ہمیں بہت خوشی ہوگی

Friday, March 8, 2019

March 08, 2019

وزن کم کرنے کے بہت ہی آسان طریقے ۔

weight loss tips urdu hindi 2019



weight loss tips urdu hindi 2019

نمبر۔۱    پانی

آپ پانی کم سے کم آٹھ گلاس روزانہ پیئیں۔
اگر آپ سے آٹھ گلاس روزانہ نہیں پیے جاتے تو شروعاتی دنوں میں مقدار کو کم کریں جتنے آپ پی سکتے ہیں پیئیں پھر آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں۔


نمبر ۳ سبزیاں اور فروٹ کھانا شروع کردیں 
یہ بھی ویسے ہی پہلے تھوڑی مقدار میں سبزی یا فروٹ کھائیں پھر آہستہ آہستہ اس کی تعداد بڑھاتے جائیں۔
نمبر ۴ چیونگم چبائیں

جاپانی تحقیق کاروں نے ویانا میں موٹاپے پر منعقدہ یورپین کانگریس میں اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا کہ چیونگ گم چبانے کے عمل نے ہر عمر اور مرد عورت دونوں اصناف کے افراد پر خاطر خواہ فرق پیدا کیا

اس سے پہلے کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آرام کی حالت میں چیونگ گم کھانے سے حرکت قلب میں اضافہ ہوتا ہے اور توانائی صرف ہوتی ہے۔
دی جرنل آف فیزیکل سائنس نامی جریدے میں شا‏ئع اس تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی پہلی بار چلتے ہوئے لوگوں پر چیونگ گم چبانے کی تحقیق کی ہے۔
اس تحقیق میں شامل 46 رضا کاروں نے 15-15 منٹ کی چہل قدمی کے دو ٹرائل دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر 40 سال سے زیادہ عمر کے مردوں پر نظر آیا جن کی چال میں بھی اضافہ ہوا اور توانائی صرف کرنے میں بھی۔
محققوں نے بتایا: 'وزن کو موثر طور پر کنٹرول کرنے کے لیے چلنے اور چبانے کی ملی جلی ورزش اہم ہو سکتی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ جاپان جیسے ممالک میں بطور خاص یہ زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہاں زیادہ تر لوگ پیدل چلنے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر:-
  • سوفٹ ڈرنک سے اجتناب کریں۔
  • فاسٹ فوڈ یا جنک فوڈ نہ کھائیں۔
  • ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں۔
  • ہر وقت بیٹھے رہنے سے بھی وزن میں اضافہ ہوتا ہے اس لئے روزانہ کچھ دیر کے لئے چہل قدمی کریں۔
  • پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

Thursday, March 7, 2019

March 07, 2019

ہمارا پڑوسی مسلمان ملک ایران ہمارا دشمن ہے یا دوست؟؟؟



کل سے جب یہ خبر وائرل ھوئی ھے کہ پاکستان کے خلاف تین ممالک نے حملہ کرنے کی سازش کی تھی تو دو ممالک کے نام تو حکومت نے بتا دئے ھے (انڈیا،اسرائیل) مگر تیسرے ملک کا نام صیغہ راز میں رکھا تب سے پاکستان میں چی مگوئیاں ھونے لگی ھے کہ تیسرا ملک کون ھوگا

کوئی ایران کا نام لے رہا ھے جبکہ کوئی امریکہ کا
اب میں اپ لوگوں کے سامنے پوری کہانی رکھتا ھوں 
ھوا یہ کہ اس سارے پلان کا ماسٹر مائنڈ امریکہ ھے جبکہ اسرائیل اور انڈیا کو یہ ٹاسک ملا کہ اپ پاکستان پر لائن اف کنٹرول کی طرف سے حملہ کر لو تاکہ پاکستان کی ساری توجہ اس بارڈر پر ھو جائے اور افغانستان کے بارڈر سے پاکستان کی توجہ ہٹ جائے گی تب افغانستان کے بارڈر سے انڈیا ، اسرائیل اور افغانستان مشترکہ حملہ کریں گے تو پاکستان بیچ میں پھنس جائے گا اور بڑی اسانی سے ھم اس کو دبوچ لینگے 
یہ ممالک اپنے پلان میں کامیاب ھوگئے جیسے ہی انڈیا نے لائن اف کنٹرول پر حملہ کردیا تو پاکستان نے اپنے فوج کو افغان بارڈر سے انڈین بارڈر پر شفٹ کرنا شروع کردیا اور افغان بارڈر FC فرنٹیرکور کے حوالے کردیا اور ساری توجہ لائن اف کنٹرول پر مرکوز کردی
مگر وہ بات صحیح ھے کہ دنیا جہاں سوچ ختم کردیتی ھے ائی ایس آئی وہاں سے اگے سوچنا شروع کردیتی ھے اس سارے پلان کا پتہ ھمارے مارخوروں لگ گیا اور انہوں نے اپنا پلان پہلے تیار کر دیا تھا جیسے ہی لائن اف کنٹرول پر جنگ چھڑ گئی پاک نے افغانستان میں ہلمند میں میدان گرم کیا ادھر لائن اف کنٹرول پر انڈیا کو دھول چٹائی اور بیک پر افغانستان میں بڑا حملہ کراکر وہاں بھی ان کا پلان ناکام بنا دیا 40 گھنٹے ہلمند کی لڑائی جاری رہی اپ غور کرو تو افغانستان میں اتنی بڑی کاروائی کبھی نہیں ھوتی اتنے وقت تک یہ جھڑپ اس لئے کھینچی گئی تاکہ وہاں سے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
اب اپ لوگوں کو سمجھ آ گیا ھوگا کہ تیسرا ملک افغانستان ھے مگر پاکستان نے اس کا نام صرف اس لئے ظاہر نہیں کیا کیونکہ پاکستان اپنا بنایا گیم ظاہر نہیں کرنا چاہتا اور امریکہ کو بھی اس میں واضح جواب دے دیا کہ پاکستان دودھ پیتا بچہ نہیں اور نہ تمہارے سازشوں سے بے خبر ھے بلکہ پاکستان کی ہر سازش پر نظر ھے اور جہاں بھی اسے محسوس ھوتا ھے کہ اس کے خلاف سازش ھو رہی ھے تو وہ وہاں بینڈ بجانے کے لئے اور کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ھے ۔



ائی ایس ائی زندہ باد



ہمارے پڑوسی ملک ایران ⁦🇮🇷⁩ نے ہم پر 70 سال میں بہت سے احسانات کئے مگر چند ایک آپ سے شئیر کرتا ہوں فیصلہ آپ نے کرنا ہے ⁦🇵🇰

1-‏ایران کا ہم پر پہلا احسان یہ تھا کہ ⁦



1965 میں جب پاکستان پر رات کے اندھیرے میں بھارت نے جنگ مسلط کردی تو پاکستان کے پاس دو دن بھی لڑنے کیلئے ہتھیار پیسہ نہیں تھا تب سعودی عرب،دبئی نے پیسے اور چین نے ہتھیار دیے جبکہ ایران نے بھارتی طیاروں کو اپنے اڈوں سے فیول مہیا کیا


2-‏ایران کا ہم پر دوسرا احسان یہ تھا کہ ⁦

1971 کی جنگ میں بھارت کو ایران کی جانب سے باقاعدہ ہوائی اڈے فراہم کیے گئےمسلک کا کارڈ کھیل کر معصوم پاکستانیوں کے زریعے مشرقی پاکستان میں فنڈنگ کی گئی اور پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے میں بھارت کا ساتھ دیاجس کا اعتراف اجیت دوال کرچکا ہے

3-‏ایران کا ہم پر تیسرا احسان ⁦

خمینی انقلاب کے بعد پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات کروائے گئے
امن و امان کیلئے کوششیں کرنے والے علماء کرام کو شہید کروایا زائرین کے نام پر جانے والوں کو وہاں ٹریننگ دے کر سلیپر سیلز بنا کر پاکستان میں لانچ کیا گیا


4-‏ایران کا ہم پر چوتھا احسان ⁦

ایران نے 2002 میں بھارت کے ساتھ ایک ایٹمی معاہدہ کیا جس کے تحت مستقبل میں پاک بھارت جنگ کی صورت میں بھارت ایران کی سرزمین استعمال کرسکتا ہے
بھارتی کٹھ جوڑ کے بعد ایٹمی پروگرام میں پاکستان مدد کررہا ہے کہہ کر دنیا کو ہمارے خلاف کردیا


5-‏ایران کا ہم پر پانچواں احسان ⁦

گواد پاکستان کا مستقبل ہےگوادر پورٹ کی کامیابی کے بعد ایران نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے گوادر سے 70 میل دور اپنی چاہ بہار بندرگاہ بھارت کو 100 سال کیلئے لیز پر دے دی ہے جس پر بھارت کے 10 ہزار فوجی گوادر کو نشانہ بنانے کیلئے موجود ہیں

6-‏ایران کا ہم پر چھٹا احسان ⁦

اسرائیل اور امریکہ ہم سے پروکسی وار کررہے ہیں
بھارت، امریکہ،اسرائیل،ایران پاکستان کے خلاف ایک ہیں
اسرائیل اور امریکہ بھارت،ایران کے زریعے پاکستان میں دہشت گردوں کو بھیجتا ہے
کلبوشن ایرانی شہری بن کر ایرانی پاسپورٹ سے پاکستان داخل ہوتا تھا




7-‏ایران کا ہم پر ساتواں احسان ⁦

عزیز بلوچ، بابا لاڈلہ سمیت تمام ٹارگٹ کلرز ایران میں ٹریننگ لے کر کراچی سمیت سندھ میں ٹارگٹ کلنگ کرکے فرقہ واریت کو ہوا دیتے رہے

کسی کو یقین نہیں تو جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ لو


8-‏ایران کا ہم پر آٹھواں احسان ⁦

کچھ قبل ایرانی فوج نے بلوچستان بارڈر پر پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کرکے چھ پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا
کیا کوئی دوست ملک ایسا کرتا ہے؟ کیا کبھی چائنہ نے ایسا کیا؟ پاک چائینہ بارڈر پر کئی میل کا علاقہ فری زون ہے اور اسے سچی دوستی کہتے ہیں


9-‏ایران کا ہم پر نوواں احسان ⁦

ایران نے ہر مسلم ملک سے لڑائی کی
شام،عراق،لیبا اور اب یمن میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر خانہ جنگی کا ماحول بنا رکھا ہے
پاکستانی فوج یمن میں لڑنے نہیں گئی جبکہ ایرانی حکومت اور میڈیا پاکستانی افوج کے خلاف یمن پر حملوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا ہے




10-‏ایران کا ہم پر دسواں احسان ⁦

اس مشکل وقت میں سعودی عرب پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے پاکستان میں سعودی ولی عہد سمیت ایک ہزار بزنس مین لیکر آیا تو ایران کو تکلیف ہوئی ایران پاکستان میں فنڈنگ کرکے اپنے ایجنڈز کے زریعے ہمارے مہمانوں کے خلاف بول کر ہم سے دور کروانے کی کوشش کرتا رہا.

11۔ایران کا ہم پر گیارواں احسان 
بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مل کر بھارتی راجستھان سے پاکستان پر حملے کی سازش بناتا رہا.